سوال :۔ داڑھی کا خلال سنت مؤکدہ ہے یا آداب میں سے ہے جبکہ صاحب ہدایہ نے جلد اول میں مسنون قرار دیا ہے دوسری جگہ صاحب بدائع نے طرفین کا مذہب بتلایا ہے کہ آداب میں سے ہے ایک جگہ سنت اول کیا کا قول کیا ہے۔ دوسری جگہ ادب کا قول نقل کیا ہے مفتی بہ قول کی وضاحت فرمائیں

 

داڑھی کا خلال سنت غیر مؤکدہ ہے

سوال:۔ داڑھی کا خلال سنت مؤکدہ ہے یا آداب میں سے ہے جبکہ صاحب ہدایہ نے جلد اول میںمسنون قرار دیا ہے دوسری جگہ صاحب بدائع نے طرفین کا مذہب بتلایا ہے کہ آداب میںسے ہے ایک جگہ سنت اول کیا کا قول کیا ہے۔ دوسری جگہ ادب کا قول نقل کیا ہے مفتیبہ قول کی وضاحت فرمائیں۔

الجواب

میں لہذا فقہی عبارات میں کوئی تضاد نہیں ہے جہاں مسنون قرار دیا مراد غیر مؤکدہ ہے۔ (1) واللہ تعالیٰ اعلم جواب:۔ وضو میں داڑھی کا خلال سنت غیر مؤکدہ ہے جس پر ادب کا لفظ استعمال کرنا بھی درست ہے

فقظ  واللہ  اعلم

فتویٰ

یہ بلاگ تلاش کریں

آپ کا مطلوبہ فتویٰ تلاش کریں: مسئلہ، سوال، یا عنوان لکھیں

"قرآن، حدیث، فقہ، اسلامی تاریخ، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، نکاح، طلاق، فتاویٰ، مسنون دعائیں، درود شریف،

مشہور اشاعتیں

About me

Welcome to Wisdom Nexus. I'm Muhammad Abu Ubaidah, an Islamic scholar and educator from Kot Addu, Pakistan. I have completed the full Dars-e-Nizami course۔Thank you for being here.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *