سوال یہ ہے کہ سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے با ختلاف روایت کون سے سن میں وفات پائ اور سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کس کے پہلو میں دفن ہوے ہیں اور دوسری بات اکثر ارباب سیر نے لکھا ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات زہر سے ہوئ اور انکو کس وجہ سے زہر دیا گیا رہنمائ فرمائیں

سوال یہ ہے کہ سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے با ختلاف  روایت کون سے سن میں وفات پائ اور سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کس کے پہلو میں دفن ہوے ہیں اور دوسری بات اکثر ارباب سیر نے لکھا ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات زہر سے ہوئ اور انکو کس وجہ سے زہر دیا گیا رہنمائ فرمائیں

الجواب

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دیا گیا تھا ، اور اسی زہر کی وجہ سے ان کی شہادت ہوئی تھی ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے کی وجہ کیا تھی ؟ کس نے زہر دیا تھا اس کے بارے میں تاریخ میں بہت اقوال اور باتیں موجود ہیں ، جو  مفصل کتب تاریخ میں موجود ہیں ، اور رطب و یابس سے بھی بھری ہوئی ہیں ، لیکن اس کے پیچھے پڑنا بظاہر مناسب نہیں ہے ؛ کیونکہ ماضی کا  ایک واقعہ تھا ، جس کے بارے میں ہم سے پوچھا نہیں جانا ہے ، البتہ سوال میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں پوچھا گیا ہے، اس کے بارے میں عرض ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو کئی مرتبہ زہر دیا گیا تھا ، لیکن آخری بار انہیں جو  زہر دیا گیا وہ بہت شدید تھا ، جس کی وجہ سے ان کی آنتیں اور جگر  کٹ چکا تھا  ، اور اس وقت کے طبیب نے جب دیکھا تو یہی بتلایا کہ ان کی آنتیں اور جگر کٹ چکا ہے ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ان سے زہر دینے والے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتلانے سے انکار کردیا اور کہا کہ قیامت کے دن اللہ کے پاس آئیں گے ۔ مشہور مؤرخ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں

 

قال: دخلت أنا ورجل آخر من قريش على الحسن بن علي فقام فدخل المخرج ثم خرج فقال: لقد لفظت طائفة من كبدي أقلبها بهذا العود، ولقد سقيت السم مرارا وما سقيت مرة هي أشد من هذه.

قال: وجعل يقول لذلك الرجل: سلني قبل أن لا تسألني، فقال ما أسألك شيئا يعافيك الله، قال: فخرجنا من عنده ثم عدنا إليه من الغد.وقد أخذ في السوق فجاء حسين حتى قعد عند رأسه، فقال: أيأخي ! من صاحبك ؟ قال: تريد قتله، قال: نعم ! قال لئن كان صاحبي الذي أظن لله أشد نقمة.

وفي رواية: فالله أشد بأسا وأشد تنكيلا، وإن لم يكنه ما أحب أن تقتل بي بريئا.۔۔۔۔۔ وقال محمد بن عمر الواقدي: حدثني عبد الله بن جعفر عن أم بكر بنت المسور قالت: الحسن سقي مرارا كل ذلك يفلت منه، حتى كانت المرة الآخرة التي مات فيها فإنه كان يختلف كبده، فلما مات أقام نساء بني هاشم عليه النوح شهرا.(البدایة والنهایة لابن کثیر :۸|۴۷، ط:داراحیاء التراث)

باقی اس کے علاوہ اگر مزید تفصیل کی ضرورت ہو تو  البدایہ والنہایہ (ابن کثیر) عربی (۸۔۴۷)یا اس کا ترجمہ ملاحظہ کیجیے۔

فقط واللہ اعلم

فتویٰ

یہ بلاگ تلاش کریں

آپ کا مطلوبہ فتویٰ تلاش کریں: مسئلہ، سوال، یا عنوان لکھیں

"قرآن، حدیث، فقہ، اسلامی تاریخ، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، نکاح، طلاق، فتاویٰ، مسنون دعائیں، درود شریف،

مشہور اشاعتیں

About me

Welcome to Wisdom Nexus. I'm Muhammad Abu Ubaidah, an Islamic scholar and educator from Kot Addu, Pakistan. I have completed the full Dars-e-Nizami course۔Thank you for being here.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *